Jesus Film Bible Study (Urdu) Part 2

بائبل کا مطالعہ 2

لوقا 8: 49-54

وہ یہ کہہ ہی رہا تھا کہ عِبادت خانہ کے سَردار کے ہاں سے کِسی نے آ کر کہا کہ تیری بیٹی مر گئی۔ اُستاد کو تکلِیف نہ دے۔

یِسُوع نے سُن کر اُسے جواب دِیا کہ خَوف نہ کر فقط اِعتِقاد رکھ۔ وہ بچ جائے گی۔

اور گھر میں پہُنچ کر پطرس اور یُوحنّا اور یَعقُوب اور لڑکی کے ماں باپ کے سِوا کِسی کو اپنے ساتھ اَندر نہ جانے دِیا۔

اور سب اُس کے لِئے رو پِیٹ رہے تھے مگر اُس نے کہا۔ ماتم نہ کرو۔ وہ مر نہِیں گئی بلکہ سوتی ہے۔

وہ اُس پر ہنسنے لگے کِیُونکہ جانتے تھے کہ وہ مر گئی ہے۔

مگر اُس نے اُس کا ہاتھ پکڑا اور پُکار کر کہا اَے لڑکی اُٹھ۔

اُس کی رُوح پھِر آئی اور وہ اُسی دم اُٹھی۔ پھِر یِسُوع نے حُکم دِیا کہ لڑکی کو کُچھ کھانے کو دِیا جائے۔

اس شخص نے یسوع سے درخواست کی کہ وہ اس کی بیٹی کو بچا لے۔ اس سے پہلے کہ اس کی بیٹی مرنے والوں میں سے جی اٹھتی یسوع نے اس آدمی سے کیا مانگا تھا؟

خدا کا تقاضا ہے کہ ہم ایمان لائیں تاکہ ہمیں وہ مل سکے جس کے لیے ہم نے دعا کی ہے۔

یعقوب 1:6-7

 مگر اِیمان سے مانگے اور کُچھ شک نہ کرے کِیُونکہ شک کرنے والا سَمَندَر کی لہر کی مانِند ہوتا ہے جو ہوا سے بہُتی اور اُچھلتی ہے۔

اَیسا آدمِی یہ نہ سَمَجھے کہ مُجھے خُداوند سے کُچھ مِلے گا۔

یسوع مرنے والوں کو زندہ کر سکتا تھا لیکن بائبل میں دوسرے لوگوں نے بھی مرنے والوں کو زندہ کیا ہے۔

1   سلاطین 17:21-22

اور اس ے اپے آ پ کو تین بار اُس لڑکے پر پسار ک خداوند سے فریاد کی اور کہا اے خداوند میرے خدا میں تیری منت کرتا ہوں  اس اور خداوندن ایلیاہ کی فریاہ  سنی اور لڑکے کی جان اُس میں پھر آگئی اور وہ جی اٹھا ۔ لڑکے کی جان اس میں پھر آجائے۔

اعمال 9:40

پطرس نے سب کو باہِر کردِیا اور گھُٹنے ٹیک کر دُعا کی ۔ پھِر لاش کی طرف مُتوّجِہ ہوکر کہا اَے تِبیتا اُٹھ ۔ پَس اُس نے آنکھیں کھول دِیں اور پطرس کو دیکھ کر اُٹھ بَیٹھی۔

دوسرے لوگوں نے خدا سے دعا کی کہ وہ مرنے والوں کو زندہ کرے۔ یسوع کو ایسا کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس نے مرنے والوں کو اٹھنے کا حکم دیا۔ یسوع ایسا کر سکتا ہے کیونکہ وہ راستہ، سچائی اور زندگی ہے.

یوحنا 14:6

یِسُوع نے اُس سے کہا کہ راہ اور حق اور زِندگی مَیں ہُوں کوئی میرے وسِیلہ کے بغَیر باپ کے پاس نہِیں آتا۔

دوسرے نبیوں کے برعکس جو لوگوں کو راہ دکھاتے ہیں، لوگوں کو سچائی کے بارے میں تعلیم دیتے ہیں اور انہیں (ابدی) زندگی حاصل کرنے کے بارے میں بتاتے ہیں، یسوع اعلان کرتا ہے کہ وہ راستہ، سچائی اور زندگی ہے۔

لوقا 6:22-23

جب اِبنِ آدم کے سبب سے لوگ تُم سے عَداوَت رکھّیں گے اور تُمہیں خارِج کردیں گے اور لعن طعن کریں گے اور تُمہارا نام بُرا جان کر کاٹ دیں گے تو تُم مُبارک ہو گے۔

اُس دِن خُوش ہونا اور خُوشی کے مارے اُچھلنا۔ اِسی لِئے کہ دیکھو آسمان پر تُمہارا اجر بڑا ہے کِیُونکہ اُن کے باپ دادا نبِیوں کے ساتھ بھی اَیسا ہی کِیا کرتے تھے۔

یسوع کے مطابق، جب لوگ اس پر ایمان لانے کی وجہ سے ہمارے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں تو ہمیں کس طرح رد عمل دینا چاہئے؟

یسوع نے کہا کہ ہمیں خوش ہونا چاہئے کیونکہ ہمارا اجر آسمان میں بہت بڑا ہے۔ لہٰذا ہمیں ان لوگوں سے ناراض نہیں ہونا چاہیے جو ہمارے عقیدے کی وجہ سے ہمارے ساتھ برا برتاؤ کرتے ہیں۔ 

لوقا 6:27-28

لیکِن مَیں تُم سُننے والوں سے کہتا ہُوں کہ اپنے دُشمنوں سے مُحبت رکھّو۔ جو تُم سے عَداوَت رکھّے اُن کا بھلا کرو۔ جو تُم پر لعنت کرے اُن کے لِئے بَرکَت چاہو۔ جو تُمہاری تحقِیر کریں اُن کے لِئے دُعا کرو۔

یسوع کے مطابق، ہمیں اپنے دشمنوں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہئے؟

ہمیں اپنے دشمنوں سے محبت کرنی چاہیے۔ جو لوگ ہم سے نفرت کرتے ہیں ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔ ہم پر لعنت کرنے والوں کو برکت دیں۔ یہ اس سے بہت مختلف ہے جو دنیا ہمیں کرنے کے لئے کہتی ہے – ان لوگوں کے خلاف انتقامی کارروائی نہ کرنا جو ہمارے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔

لوقا 7:37-39

تو دیکھو ایک بدچلن عَورت جو اُس شہر کی تھی۔ یہ جان کر کہ وہ اُس فرِیسی کے گھر میں کھانا کھانے بَیٹھا ہے سنگِ مر مر کے عِطردان میں عِطر لائی۔

اور اُس کے پاؤں کے پاس روتی ہُوئی پِیچھے کھڑی ہوکر اُس کے پاؤں آنسوؤں سے بھگونے لگی اور اپنے سر کے بالوں سے اُن کو پونچھا اور اُس کے پاؤں بہُت چُومے اور اُن پر عِطر ڈالا۔

اُس کی دعوت کرنے والا فرِیسی یہ دیکھ کر اپنے جِی میں کہنے لگا کہ اگر یہ شَخص نبی ہوتا تو جانتا کہ جو اُسے چھُوتی ہے وہ کَون اور کَیسی عَورت ہے کِیُونکہ بدچلن ہے۔

یسوع کا رد عمل کیا تھا جب اس کا سامنا ایک گنہگار عورت (ایک طوائف) سے ہوا؟

یسوع ناپاک ہونے کے باوجود اسے چھونے کی اجازت دینے کے لئے تیار کیوں نہیں تھا؟

یسوع نے عورت کی بات کو قبول کیا اور نہ ہی اس کی مذمت کی اور نہ ہی خود کو اس سے دور کرنے کی کوشش کی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا ان گنہگاروں کو آسانی سے قبول کر لیتا ہے جو اس کے پاس توبہ کے لیے آتے ہیں۔

یسوع اسے چھونے سے نہیں ڈرتا تھا۔ ایک اور جگہ جس میں یسوع نے کسی ناپاک شخص کو چھوا۔

یہ کہانی لوقا  16 -5:12  میں ہمارے لئے درج ہے جب ایک کوڑھی نے یسوع سے شفا کے لئے کہا. یہودی معاشرے میں کوڑھی کو ناپاک سمجھا جاتا ہے اور جو کوئی انہیں چھوتا ہے وہ بھی ناپاک سمجھا جائے گا۔ یسوع نے آگے بڑھ کر کوڑھی کو چھوا حالانکہ اسے ایسا کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ صرف اس کے الفاظ ہی کوڑھی کو شفا دے سکتے تھے۔ یسوع نے اپنا ہاتھ کوڑھی کی طرف بڑھایا تاکہ اس سے محبت اور قبولیت کا اظہار کیا جاسکے اور ہمیں دکھایا جاسکے کہ وہ ناپاک کو چھونے سے ناپاک نہیں ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، یسوع کے پاس آنے والا ناپاک پاک نہ ہو گیا۔

یہ بہت سی مذہبی رسومات سے مختلف ہے جہاں صفائی کرنے والے کو ناپاک کو چھونے سے گریز کرنا پڑتا ہے کیونکہ صاف ستھرا پھر ناپاک ہو جاتا ہے۔

لوقا 7:48-50

اور اُس عَورت سے کہا تیرے گُناہ مُعاف ہُوئے۔ اِس پر وہ جو اُس کے ساتھ کھانا کھانے بَیٹھے تھے اپنے جِی میں کہنے لگے کہ یہ کَون ہے جو گُناہ بھی مُعاف کرتا ہے۔؟ مگر اُس نے عَورت سے کہا تیرے اِیمان نے تُجھے بَچا لِیا ہے۔ سَلامت چلی جا۔

اس عورت کے پاس ایسا کیا تھا جس کی وجہ سے وہ نجات پا گئی؟

سب سے پہلے، وہ یسوع پر ایمان رکھتی تھی. جو شخص خدا کے ذریعہ نجات حاصل کرنا چاہتا ہے اسے یقین ہونا چاہئے کہ صرف خدا ہی بچا سکتا ہے اور مدد کے لئے اس کے پاس آ سکتا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اس عورت کا دل سچی توبہ کے لیے تیار تھا۔ اس نے اپنی خوشبو یسوع کے قدموں پر ڈال دی۔ خوشبو ایک ایسی چیز ہے جسے ایک طوائف اپنے کام میں استعمال کرتی ہے اور اسے یسوع پر استعمال کرنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ دوبارہ طوائف نہیں بننا چاہتی۔

جب یسوع نے اس گنہگار عورت کا گناہ معاف کر دیا تو لوگوں کا رد عمل کیا تھا؟

لوگوں کا خیال تھا کہ یہ توہین مذہب ہے کیونکہ صرف خدا ہی گناہوں کو معاف کر سکتا ہے۔ بائبل میں ایک اور حوالہ ہے جو لوگوں کے اسی رد عمل کو ظاہر کرتا ہے جب یسوع نے گناہوں کو معاف کرنے کے قابل ہونے کا دعوی کیا تھا۔

لوقا 5:18-26

اور دیکھو کئی مرد ایک آدمِی کو جو مفلُوج تھا چارپائی پر لائے اور کوشِش کی کہ اُسے اَندر لاکر اُس کے آگے رکھّیں۔ اور جب بھِیڑ کے سبب سے اُس کو اَندر لے جانے کی راہ نہ پائی تو کوٹھے پر چڑھ کر کھپریل میں سے اُس کو کھٹولے سمیت بِیچ میں یِسُوع کے سامنے اُتار دِیا۔ اُس نے اُن کا اِیمان دِیکھ کر کہا اَے آدمِی! تیرے گُناہ مُعاف ہُوئے۔ اس پر فقیہ اور فرِیسی سوچنے لگے کہ یہ کَون ہے جو کُفر بکتا ہے؟ خُدا کے سِوا اور کَون گُناہ مُعاف کر سکتا ہے؟

بحیثیت انسان ہم صرف اس شخص کو معاف کر سکتے ہیں جس نے ہمارے ساتھ کچھ غلط کیا ہو۔ لیکن جب اس شخص نے خدا کے ساتھ کچھ غلط کیا ہے، تو صرف خدا ہی اس شخص کو معاف کرنے کی قدرت رکھتا ہے. یسوع نے خدا ہونے کا دعویٰ کیا جب اس نے کہا کہ وہ بھی گناہوں کو معاف کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ 

متی 11:2-5

اور یُوحنّا نے قَید خانہ میں مسِیح کے کاموں کا حال سُن کر اپنے شاگِردوں کی معرفت اُس سے پُچھوا بھیجا۔ کہ آنے والا تُو ہی ہے یا ہم دُوسرے کی راہ دیکھیں؟ کہ آنے والا تُو ہی ہے یا ہم دُوسرے کی راہ دیکھیں؟ کہ آنے والا تُو ہی ہے یا ہم دُوسرے کی راہ دیکھیں؟ یِسُوع نے جواب میں اُن سے کہا کہ جو کُچھ تُم سُنتے اور دیکھتے ہو جا کر یُوحنّا سے بیان کردو۔ کہ اَندھے دیکھتے اور لنگڑے چلتے پھِرتے ہیں۔ کوڑی پاک صاف کِئے جاتے اور بہرے سُنتے ہیں اور مُردے زِندہ کِئے جاتے ہیں اور غریبوں کو خُوشخَبری سُنائی جاتی ہے۔

یسوع نے زمین پر رہتے ہوئے بہت سے معجزے کیے۔ ان معجزات کو دکھانے کا مقصد کیا تھا؟

یہ معجزات لوگوں کے لئے ایک نشانی ہیں کہ یسوع ایک طویل عرصے سے منتظر مسیح تھا۔

یوحنا 10:24-26

پَس یہُودِیوں نے اُس کے گِرد جمع ہو کر اُس سے کہا تُو کب تک ہمارے دِل کو ڈانوانڈول رکھّے گا؟اگر تُو مسِیح ہے تو ہم سے صاف کہہ دے۔ یِسُوع نے اُنہِیں جواب دِیا کہ مَیں نے تو تُم سے کہہ دِیا مگر تُم یقِین نہِیں کرتے۔ جو کام مَیں اپنے باپ کے نام سے کرتا ہُوں وُہی میرے گواہ ہیں۔

یسوع نے بہت سے معجزے کرکے ثابت کیا کہ وہ خدا کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ اگر کوئی شخص خدا کی طرف سے آنے کا دعوی کرتا ہے لیکن کوئی معجزہ نہیں کرسکتا ہے تو ہمارے پاس اس بات کی تصدیق کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ آیا وہ سچ کہہ رہا ہے یا نہیں۔

لوقا 8:4-8

پھِر جب بڑی بھِیڑ جمع ہُوئی اور ہر شہر کے لوگ اُس کے پاس چلے آتے تھے اُس نے تَمثِیل میں کہا کہ۔ ایک بونے والا اپنا بِیج بونے نِکلا اور بوتے وقت کُچھ راہ کے کِنارے گِرا اور رَوندا گیا اور ہوا کے پرِندوں نے اُسے چُگ لِیا۔ اور کُچھ چٹان پر گِرا اور اُگ کر سُوکھ گیا اِس لِئے کے اُس کو تری نہ پہُنچی۔ اور کُچھ جھاڑیوں میں گِرا اور جھاڑیوں نے ساتھ ساتھ بڑھ کر اُسے دبا لِیا۔ اور کُچھ اچھّی زمِین میں گِرا اور اُگ کر سَو گُنا پھَل لایا۔ یہ کہہ کر اُس نے پُکارا۔ جِس کے سُننے کے کان ہوں وہ سُن لے!۔ اور کُچھ اچھّی زمِین میں گِرا اور اُگ کر سَو گُنا پھَل لایا۔ یہ کہہ کر اُس نے پُکارا۔ جِس کے سُننے کے کان ہوں وہ سُن لے!۔

لوقا 8:11-15

وہ تَمثِیل یہ ہے کہ بِیج خُدا کا کلام ہے۔ راہ کے کِنارے کے وہ ہیں جِنہوں نے سُنا۔ پھِر اِبلِیس آ کر کلام کو اُن کے دِل سے چھِین لے جاتا ہے۔ اَیسا نہ ہوکہ اِیمان لاکر نِجات پائیں۔ اور چٹان پر کے وہ ہیں جو سُن کر کلام کو خُوشی سے قُبُول کرلیتے ہیں لیکِن جڑ نہِیں رکھتے مگر کُچھ عرصہ تک اِیمان رکھ کر آزمایش کے وقت پھِر جاتے ہیں۔ اور جو جھاڑیوں میں پڑا اُس سے وہ لوگ مُراد ہیں جِنہوں نے سُنا لیکِن ہوتے ہوتے اِس زِندگی کی فِکروں اور دَولت اور عَیش و عشرت میں پھنس جاتے ہیں اور اُن کا پھَل پکتا نہِیں۔ مگر اَچھّی زمِین کے وہ ہیں جو کلام کو سُن کر عُمدہ اور نیکدِل میں سنبھالے رہتے اور صبر سے پھَل لاتے ہیں۔

پتھریلی زمین پر گرنے والے بیجوں کا کوئی پھل نہیں تھا۔ ایسا کیوں ہے؟

پتھریلی زمین پر رہنے والے وہ لوگ ہیں جو کلام سن کر خوشی سے قبول کرتے ہیں، لیکن ان کی کوئی جڑ نہیں ہے۔ وہ تھوڑی دیر کے لئے یقین کرتے ہیں، لیکن امتحان کے وقت وہ دور ہو جاتے ہیں. یہاں تک کہ ایک درخت جس کی جڑیں مضبوط نہیں ہیں وہ طوفان آنے پر گر سکتا ہے۔ ہم اپنے آپ کو خدا کے کلام پر لگاتار قائم رکھنے اور بائبل کا مطالعہ کرنے سے اپنی جڑیں مضبوط کرسکتے ہیں۔

زبور 1:1-3

مُبارک ہے وہ آدمی جو شریروں کی صلاح پر نہیں چلتا اور خطا کاروں کی راہ میں کھڑا نہیں ہوتا اور ٹھٹھا بازوں کی مجلس میں نہیں بیٹھتا۔ بلکہ خُداوند کی شریعت میں اُس کی خوشنودی ہے اور اُسی کی شریعت پر دِن رات اُس کا دِھیان رہتا ہے۔ وہ اُس درخت کی مانند ہوگا جو پانی کی ندیوں کے پاس لگایا گیا ہے۔ جو اپنے وقت پر پھلتا ہے اور جسکا پتا بھی نہیں مُرجھاتا۔ سو جو کچھ وہ کرئے بارور ہوگا۔