Jesus Film Bible Study (Urdu) Part 3

حصہ 3

لوقا 8:22-25

پھِر ایک دِن اَیسا ہُؤا کہ وہ اور اُس کے شاگِرد کَشتی میں سوار ہُوئے اور اُس نے اُن سے کہا کہ آؤ جھِیل کے پار چلیں۔ پَس وہ روانہ ہُوئے۔ مگر جب کَشتی چلی جاتی تھی تو وہ سو گیا اور جھِیل پر بڑی آندھی آئی اور کَشتی پانی سے بھری جاتی تھی اور وہ خطرہ میں تھے۔ اُنہوں نے پاس آ کر اُسے جگایا اور کہا کہ صاحِب صاحِب ہم ہلاک ہُوئے جاتے ہیں! اُس نے اُٹھ کر ہوا کو اور پانی کے زور شور کو جھِڑکا اور دونوں تھم گئے اور امن ہوگیا۔ اُس نے اُن سے کہا تُمہارا اِیمان کہاں گیا؟ وہ ڈر گئے اور تعّجُب کر کے آپس میں کہنے لگے کہ یہ کَون ہے؟ یہ تو ہوا اور پانی کو حُکم دیتا ہے اور وہ اُس کی مانتے ہیں۔

جب یسوع کشتی میں تھا، تو وہ سو گیا۔ اگر یسوع خدا ہے، تو وہ کبھی کبھی کیوں تھک جاتا تھا ؟

زمین پر رہتے ہوئے، یسوع مکمل طور پر خدا اور مکمل طور پر انسان تھا. لہذا، بائبل میں، آپ کو ایسی آیات ملیں گی جو اس کے خدا ہونے کے بارے میں بتاتی ہیں اور وہ آیات جو اس کی مردانگی کے بارے میں بات کرتی ہیں۔

یسوع بھوکا اور پیاسا ہو۔. (متی 4:2; یوحنا 19:28).

یسوع سفر کرنے سے تھک گیا تھا۔ (یوحنا 4:6).

یسوع کو نیند اور تازگی کی ضرورت تھی۔ (متی 8:24).

یسوع ایک عزیز دوست کی قبر پر رونے لگا۔ (یوحنا 11:35).

یسوع اس وقت بھی پرسکون کیوں سو رہے تھے جب وہ جس کشتی میں سوار تھے  جب وہ ڈوبنے والا تھے؟

یسوع پرسکون رہ سکتا تھا کیونکہ اسے یقین تھا کہ اس کا باپ اسے ڈوبنے سے بچائے گا۔

 یسعیاہ  43:1-3

 اور اب اے یعقوب! خداوند جس نے تجھ کو پیدا کیا اورجس نے اے اسرائیل تجھ کو بنایا یوں فرماتا ہے کہ خوف نہ کر کیونکہ میں نے تیرا فدیہ دیا ہے۔ میں نے تیرا نام لیکر تجھے بلایا ہے تومیرا ہے۔ جب تو سیلاب میں سے گذرے تو میں تیرے ساتھ ہونگا اورجب تو ندیوں میں سے گزرے تو وہ تجھے نہ ڈبائینگی۔ جب تو آگ پر چلے گا تو تجھے آنچ نہ لگیگی اورشعلہ تجھے نہ جلائیگا۔ کیونکہ میں خداوند تیرا خدا اسرائیل کا قدوس تیرا نجات دینے والا ہوں۔ میں نے تیرے فدیہ میں مصر کو اورتیرے بدلے میں کوش اور سبا کو دیا۔

یسوع کو ہواؤں اور پانی پر بھی اختیار کیوں ہے؟

تخلیق پر صرف خالق کا ہی اختیار ہوگا۔ یسوع کا مخلوق پراختیار ہے کیونکہ دنیا اس کے وسیلہ سے پیدا ہوئی تھی۔

یوحنا 1:1-3

 یہی اِبتدا میں خُدا کے ساتھ تھا۔   اِبتدا میں کلام تھا اور کلام خُدا کے ساتھ تھا اور کلام خُدا تھا۔

سب چِیزیں اُس کے وسِیلہ سے پَیدا ہُوئیں اور جو کُچھ پَیدا ہُؤا ہے اُس میں سے کوئی چِیز بھی اُس کے بغَیر پَیدا نہِیں ہُوئی۔

لوقا 8:27-32

جب وہ کِنارے پر اُترا تو اُس شہر کا ایک مرد اُسے مِلا جِس میں بد رُوحیں تھِیں اور اُس نے بڑی مُدّت سے کپڑے نہ پہنے تھے اور وہ گھر میں نہِیں بلکہ قَبروں میں رہا کرتا تھا۔ وہ یِسُوع کو دیکھ کر چِلّایا اور اُس کے آگے گِر کر بُلند آواز سے کہنے لگا اَے یِسُوع! خُدا تعالٰے کے بَیٹے مُجھے تُجھ سے کیا کام؟ تیری مِنّت کرتا ہُوں کہ مُجھے عذاب میں نہ ڈال۔ کِیُونکہ وہ اُس ناپاک رُوح کو حُکم دیتا تھا کہ اِس آدمِی میں سے نِکل جا۔ اِس لِئے کہ اُس نے اُس کو اکثر پکڑا تھا اور ہرچند لوگ اُسے زنجیروں اور بیڑیوں سے جکڑ کر قابُو میں رکھتے تھے تَو بھی وہ زنجیروں کو توڑ ڈالتا تھا اور بد رُوح اُس کو بِیابانوں میں بھگائے پھِرتی تھی۔ یِسُوع نے اُس سے پُوچھا تیرا کیا نام ہے؟ اُس نے کہا لشکر کِیُونکہ اُس میں بہُت سے بد رُوحیں تھِیں۔ اور وہ اُس کی مِنّت کرنے لگیں کہ ہمیں اتھاہ گڑھے میں جانے کا حُکم نہ دے۔ وہاں پہاڑ پر سؤاروں کا ایک بڑا غول چر رہا تھا۔ اُنہوں نے اُس کی مِنّت کی کہ ہمیں اُن کے اَندر جانے دے۔ اُس نے اُنہِیں جانے دِیا۔

کیا یسوع ابلیس سے ڈرتا تھا یا شیطان اس سے ڈرتا تھا؟ ابلیس نے یسوع کی اطاعت کیوں کی؟

آدمیوں کے برعکس جن نبیوں نے بری روحوں سے خدا سے حفاظت مانگنی پڑ، یسوع کو ان سے کوئی خوف نہیں تھا۔ شیطان نے تسلیم کیا کہ یسوع خدا کا بیٹا ہے اور ان پر اختیار رکھتا تھا۔ اگر ہمارے پاس یسوع ہے تو ہمیں شیطان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

لوقا 10:19

دیکھو مَیں نے تُم کو اِختیّار دِیا کہ سانپوں اور بِچھُوّؤں کو کُچلو اور دُشمن کی ساری قُدرت پر غالِب آؤ اور تُم کو ہرگِز کِسی چِیز سے ضرر نہ پہُنچیگا۔

جب ہم دیکھتے ہیں کہ شیطان ہماری زندگیاں، ہمارے کام، تعلقات وغیرہ کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تو ہم اپنی صورتحال پر اختیار کرسکتے ہیں اور شیطان کو یسوع کے نام پر پیچھے ہٹنے کا حکم دے سکتے ہیں۔

یسوع نے اس شخص کو اجازت کیوں نہیں دی جسے اس نے شیطان کے قبضے سے بچایا تھا؟

یسوع دوسروں کو بتانے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں کہ خدا نے ہمارے لئے کیا کیا ہے۔ جب خدا نے ہمیں بچایا ہے اور ہمارے مشکل حالات میں ہماری مدد کی ہے، تو یہ خود غرضی ہوگی کہ ہم ان لوگوں کے ساتھ خوشخبری کا پیغام نہ دیں جن سے ہم محبت کرتے ہیں۔

لوقا 9:12

جب دِن ڈھلنے لگا تو اُن بارہ نے آ کر اُس سے کہا کہ بھِیڑ کو رُخصت کر کہ چاروں طرف کے گاؤں اور بستِیوں میں جا ٹِکیں اور کھانے کی تدبیر کریں کِیُونکہ ہم یہاں ویران جگہ میں ہیں۔

کیا یسوع نے بھوکے لوگوں کو دور بھیج دیا؟ یہ واقعہ آپ کو خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟

یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ وہ انہیں کھانے کے لئے کچھ دیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا نہ صرف ہماری روحانی ضروریات کو پورا کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے بلکہ وہ ہماری جسمانی ضروریات کو پورا کرنے میں بھی دلچسپی رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر، یسوع لوگوں کو شفا دینے کے لئے گھومتا رہا۔ یہ نہ صرف ان کی روحانی صحت ہے جو اس کے لئے اہم ہے بلکہ ان کی جسمانی صحت بھی اہم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی تمام ضروریات کے لئے خدا سے رابطہ کرسکتے ہیں ، نہ صرف اپنی روحانی ضروریات کے لئے۔ 

لوقا 9:13-14, 16-17

اُس نے اُن سے کہا تُم ہی اُنہِیں کھانے کو دو۔ اُنہوں نے کہا ہمارے پاس پانچ روٹِیوں اور دو مچھلِیوں سے زیادہ موجُود نہِیں مگر ہاں ہم جا کر اِن سب لوگوں کے لِئے کھانا مول لے آئیں۔ کِیُونکہ وہ پانچہزار مرد کے قرِیب تھے۔ اُس نے اپنے شاگِردوں سے کہا کہ اُن کو تخمِیناً پچاس پچاس کی قطاروں میں بِٹھاؤ۔ پھِر اُس نے وہ پانچ روٹِیاں اور دو مچھلِیاں لِیں اور آسمان کی طرف دیکھ کر اُن پر بَرکَت بخشی اور توڑ کر اپنے شاگِردوں کو دیتا گیا کہ لوگوں کے آگے رکھّیں۔ اُنہوں نے کھایا اور سب سیر ہوگئے اور اُن کے بچے ہُوئے ٹکڑوں کی بارہ ٹوکرِیاں اُٹھائی گئِیں۔

کیا ہوا جب پانچ روٹیاں اور دو مچھلیاں یسوع کو پیش کی گئیں؟ ہم اس واقعے سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

جب ہم اس کے پاس جاتے ہیں تو خدا معجزانہ طور پر ہماری ضروریات کو پورا کرتا ہے۔

ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ خدا کو پیش کرنے کے لئے بہت کم ہے۔ جو کچھ بھی دستیاب ہے اسے جب ہم خدا کے پاس لاتے ہیں، تو وہ اسے بڑھا سکتا ہے اور ان کے ساتھ اور بھی عظیم کام کر سکتا ہے.

لوقا 9:18-20, 22

جب وہ تنہائی میں دُعا کر رہا تھا اور شاگِرد اُس کے پاس تھے تو اَیسا ہُؤا کہ اُس نے اُن سے پُوچھا کہ لوگ مُجھے کیا کہتے ہیں؟ اُنہوں نے جواب میں کہا یُوحنّا بپتِسمہ دینے والا اور بعض ایلِیاہ کہتے ہیں اور بعض یہ کہ قدِیم نبِیوں میں سے کوئی جی اُٹھا ہے۔ اُس نے اُن سے کہا لیکِن تُم مُجھے کیا کہتے ہو؟ پطرس نے جواب میں کہا کہ خُدا کا مسِیح۔ اور کہا ضرُور ہے کہ اِبنِ آدم بہُت دُکھ اُٹھائے اور بُزُرگ اور سَردار کاہِن اور فقِیہ اُسے ردّ کریں اور وہ قتل کِیا جائے اور تِیسرے دِن جی اُٹھے۔

یسوع نے اپنے شاگردوں سے کیوں پوچھا کہ لوگ اسے کیا سمجھتے ہیں؟ یسوع نے پطرس سے کیوں پوچھا کہ پطرس کے خیال میں وہ کون ہے؟

یسوع کے بارے میں ہم جو یقین رکھتے ہیں وہ ہماری ابدی زندگی کا تعین کرتا ہے۔ ہمیں نجات حاصل کرنے سے پہلے یہ یقین کرنا چاہئے کہ وہ مسیح ہے۔

یوحنا 20:31

لیکِن یہ اِس لِئے لِکھے گئے کہ تُم اِیمان لاؤ کہ یِسُوع ہی خُدا کا بَیٹا مسِیح ہے اور اِیمان لاکر اُس کے نام سے زِندگی پاو۔

جب پطرس نے کھلے عام یسوع کو مسیح کے طور پر تسلیم کیا (مسیح عبرانی لفظ ہے مسیحا کے یونانی لفظ کے مساوی ہے) تو یسوع نے اپنے شاگردوں کو کیا بتایا کہ زمین پر آنے کا اس کا کیا مقصد ہے؟

یسوع نے کہا کہ اسے قتل کیا جائے گا اور تیسرے دن وہ زندہ کیا جائےگا ۔ بعد کی ویڈیوز میں ہم سیکھیں گے کہ یسوع کا مرنا کیوں ضروری ہے۔

لوقا 9: 23-26

اور اُس نے سب سے کہا اگر کوئی میرے پِیچھے آنا چاہے تو اپنی خُودی سے اِنکار کرے اور ہر روز اپنی صلِیب اُٹھائے اور میرے پِیچھے ہولے۔ کِیُونکہ جو کوئی اپنی جان بَچانا چاہے وہ اُسے کھوئے گا اور جو کوئی میری خاطِر اپنی جان کھوئے وُہی اُسے بَچائے گا۔ اور آدمِی اگر ساری دُنیا کو حاصِل کرے اور اپنی جان کو کھودے یا اُس کا نُقصان اُٹھائے تو اُسے کیا فائِدہ ہوگا؟ کِیُونکہ جو کوئی مُجھ سے اور میری باتوں سے شرمائے گا اِبنِ آدم بھی جب اپنے اور اپنے باپ کے اور پاک فرِشتوں کے جلال میں آئے گا تو اُس سے شرمائے گا۔

یسوع اپنے پیروکار ہونے کے بارے میں کیا کہتا ہے؟

یسوع نے کہا کہ اس کا پیروکار بننا آسان نہیں ہوگا۔ ہمیں روزانہ اپنی صلیب اٹھانی چاہیے (یعنی اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے جو خدا نے اس دنیا میں ہمارے لیے رکھا ہے)۔

ہمیں ستایا جا سکتا ہے اور ہماری جان بھی جا سکتی ہے۔ تاہم، اگر ہم اپنی زمینی زندگی کھو بھی دیں، توبھی ہم اس کے ساتھ آسمان میں ہمیشہ کی زندگی حاصل کریں گے. یہ دنیا کو کھونے اور نجات حاصل کرنے کے برابر ہے اور ہمیں اس کی تعلیمات پر شرمندہ نہیں ہونا چاہئے۔

لوقا 11:1-4

پھِر اَیسا ہُؤا کہ وہ کِسی جگہ دُعا کر رہا تھا۔ جب کر چُکا تو اُس کے شاگِردوں میں سے ایک نے اُس سے کہا اَے خُداوند جَیسا یُوحنّا نے اپنے شاگِردوں کو دُعا کرنا سِکھایا تُو بھی ہمیں سِکھا۔ اُس نے اُن سے کہا جب تُم دُعا کرو تو کہو اَے باپ تیرا نام پاک مانا جائے۔ تیری بادشاہی آئے۔ ہماری روز کی روٹی ہر روز ہمیں دے۔ اور ہمارے گُناہ مُعاف کر کِیُونکہ ہم بھی اپنے ہر قرضدار کو مُعاف کرتے ہیں اور ہمیں آزمایش میں نہ لا۔

یسوع نے اپنے شاگردوں سے کیا کہا کہ وہ دعا کرتے وقت خدا کوکیسے پکارا کریں؟

جب ہم دعا کرتے ہیں، تو ہم خدا کو اپنا “باپ” کہہ سکتے ہیں. عہد نامہ قدیم کے عظیم دعاگوؤں نے کبھی بھی خدا کو اپنا “باپ” نہیں کہا۔ ہمیں خدا کو “باپ” کہنے کے لئے کہہ گیا ہے، یسوع ہمیں بتا رہا ہے کہ ہم خدا کے قریب آ سکتے ہیں جیسے وہ ہمارا زمینی باپ ہو۔ یہ اعزاز یسوع کے وسیلہ سے منفرد طور پر ہمارا ہے۔

رومیوں 8:15-17

کِیُونکہ تُم کو غُلامی کی رُوح نہِیں ملِی جِس سے پھِر ڈر پَیدا ہو بلکہ لے پالک ہونے کی رُوح مِلی جِس سے ہم ابّا یعنی اَے باپ کہہ کر پُکارتے ہیں۔ رُوح خُود ہماری رُوح کے ساتھ مِل کر گواہی دیتا ہے کہ ہم خُدا کے فرزند ہیں۔ اور اگر فرزند ہیں تو وارِث بھی ہیں یعنی خُدا کے وارِث اور مسِیح کے ہم مِیراث بشرطیکہ ہم اُس کے ساتھ دُکھ اُٹھائیں تاکہ اُس کے جلال بھی پائیں۔

جب ہم یسوع پر ایمان لاتے ہیں، تو ہم خدا کے بچے بن جاتے ہیں. ہم اپنی زندگی خدا کو خوش کرنے کے لئے گزارتے ہیں کیونکہ ایک بچہ اپنے والدین کو خوش کرنا چاہتا ہے۔ ہم ایسے خوف کی وجہ سے نہیں کرتے جیسا کہ مالک غلام کی حالت میں ہوتا ہے۔