Jesus Film Bible Study (Urdu) Part 6

حصہ 6

لوقا 22:54-62

پھِر وہ اُسے پکڑ کر لے چلے اور سَردار کاہِن کے گھر میں لے گئے اور پطرس فاصِلہ پر اُس کے پِیچھے پِیچھے جاتا تھا۔ اور جب اُنہوں نے صحن کے بِیچ میں آگ جلائی اور مِل کر بَیٹھے تو پطرس اُن کے بِیچ میں بَیٹھ گیا۔ ایک لَونڈی نے اُسے آگ کی روشنی میں بَیٹھا ہُؤا دیکھ کر اُس پر خُوب نِگاہ کی اور کہا یہ بھی اُس کے ساتھ تھا۔ ایک لَونڈی نے اُسے آگ کی روشنی میں بَیٹھا ہُؤا دیکھ کر اُس پر خُوب نِگاہ کی اور کہا یہ بھی اُس کے ساتھ تھا۔ مگر اُس نے یہ کہہ کر اِنکار کِیا کہ اَے عَورت مَیں اُسے نہِیں جانتا۔ تھوڑی دیر کے بعد کوئی اور اُسے دیکھ کر کہنے لگا کہ تُو بھی اُنہی میں سے ہے۔ پطرس نے کہا مِیاں مَیں نہِیں ہُوں۔ کوئی گھنٹے بھر کے بعد کوئی اَور شَخص یقِینی طور سے کہنے لگا کہ یہ آدمِی بیشک اُس کے ساتھ تھا کِیُونکہ گلِیلی ہے۔ پطرس نے کہا مِیاں مَیں نہِیں جانتا تُو کیا کہتا ہے۔ وہ کہہ ہی رہا تھا کہ اُسی دم مُرغ نے بانگ دی۔ اور خُداوند نے پھِر کر پطرس کی طرف دیکھا اور پطرس کو خُداوند کی وہ بات یاد آئی جو اُس سے کہی تھی کہ آج مُرغ کے بانگ دینے سے پہلے تُو تِین بار میرا اِنکار کرے گا۔ اور وہ باہِر جا کر زار زار رویا۔

پطرس نے یسوع کو تین بار جھٹلایا۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ اس نے ایک غلط کام کیا تھا؟

اگرچہ پطرس کا یسوع سے انکار کرنا غلط تھا ، لیکن پطرس نے جب یسوع کو محافظوں کے ذریعہ برا سلوک کرتے دیکھا تو وہ اپنی جان کے خوف میں مبتلا ہو گیا۔ اہم بات یہ تھی کہ پطرس کو احساس ہوا کہ اس نے جو کچھ کیا وہ غلط تھا اور اس نے توبہ کر لی۔

1 یوحنا 1:9

اگر اپنے گُناہوں کا اِقرار کریں تو وہ ہمارے گُناہوں کے مُعاف کرنے اور ہمیں ساری ناراستی سے پاک کرنے میں سَچّا اور عادِل ہے۔

یسوع نے پطرس کو اس کے اعمال کی وجہ سے معاف کر دیا اور اسے یسوع کی بھیڑوں (یعنی پیروکاروں) کو سنبھلنے  کے ایک اہم کام کے لیے مقرر کردیا۔ اس نے پطرس کو تین بار یسوع کے لئے اپنی محبت کا اقرار کرنے کا موقع بھی دیا۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پطرس اپنے عقیدے پر قائم رہا اور بالآخر صلیب پر بھی چڑھا دیا گیا۔

یوحنا21:15-19

اور جب کھانا کھاچُکے تو یِسُوع نے شمعُون پطرس سے کہا اَے شمعُون یُوحنّا کے بَیٹے کیا تُو اِن سے زیادہ مُجھ سے محبّت رجھتا ہے؟اُس نے اُس سے کہا ہاں خُداوند تُو تو جانتا ہی ہے کہ مَیں تُجھے عزِیز رکھتا ہُوں۔ اُس نے اُس سے کہا۔ تو میرے برّے چرا۔ اُس نے دوبارہ اُس سے پِھر کہا اَے شمعُون یُوحنّا کے بَیٹے کیا تُو مُجھ سے محبّت رکھتا ہے؟اُس نے کہا ہاں خُداوند تُو تو جانتا ہی ہے کہ مَیں تُجھ کو عِزیز رکھتا ہُوں۔ اُس نے اُس سے کہا تو میری بھیڑوں کی گلّہ بانی کر۔ اُس نے تیِسری بار اُس سے کہا اَے شمعُون یُوحنّا کے بَیٹے کیا تُو مُجھے عِزیز رکھتا ہے؟چُونکہ اُس نے تیِسری بار اُس سے کہا کیا تُو مُجھے عِزیز رکھتا ہے اِس سبب سے پطرس نے دِلگیر ہو کر اُس سے کہا اَے خُداوند!تُو تو سب کُچھ جانتا ہے۔ تُجھے معلُوم ہی ہے کہ مَیں تُجھے عِزیز رکھتا ہُوں۔ یِسُوع نے اُس سے کہا تو میری بھیڑیں چرا۔ مَیں تُجھ سے سَچ کہتا ہُوں کہ جب تُو جوان تھا تو آپ ہی اپنی کمر باندھتا تھا اور جہاں چاہتا تھا پِھرتا تھا مگر جب تُو بُوڑھا ہوگا تو اپنے ہاتھ لمبے کرے گا اور دُوسرا شَخص تیری کمر باندھے گا اور جہاں تُو نہ چاہے گا وہاں تُجھے لیجائے گا۔ اُس نے اِن باتوں سے اِشارہ کردِیا کہ وہ کِس طرح کی مَوت سے خُدا کا جلال ظاہِر کرے گا اور یہ کہہ کر اُس سے کہا میرے پِیچھے ہولے۔

لوقا 22:69-71

لیکِن اَب سے اِبنِ آدم قادِرِ مُطلَق خُدا کی دہنی طرف بَیٹھا رہے گا۔ اِس پر اُن سب نے کہا پَس کیا تُو خُدا کا بَیٹا ہے؟ اُس نے اُن سے کہا تُم خُود کہتے ہو کِیُونکہ مَیں ہُوں۔ اُنہوں نے کہا اَب ہمیں گواہی کی کیا حاجت رہی؟ کِیُونکہ ہم نے خُود اُسی کے مُنہ سے سُن لِیا ہے۔

آپ کو کیا لگتا ہے کہ جب یسوع نے یہ کہا تھا تو لوگ بغیر کسی گواہ کے یسوع کی مذمت کرنے کے لئے تیار تھے؟

یسوع نے “انسان کا بیٹا” کی اصطلاح استعمال کی اپنے آپ کو مخاطب کرنے کے لئے ۔ یہ لقب پرانے عہد نامہ میں مسیح کی طرف اشارہ کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔

دانی ایل 7:13-14

میں نے رات کو رویا میں دیکھا اور کیا دیکھتا ہُوں کہ ایک شخص آدم زاد کی مانند آسمان کے بادلوں کے ساتھ آیا اور قدیم الایّام تک پُہنچا۔ وہ اُسے اُس کے حضُور لائے۔ اور سلطنت اور حشمت اور مملکت اُسے دی گئی تا کہ سب لوگ اور اُمتیں اور اہل لُغت اُس کی خدمت گُزاری کریں ۔ اُس کی سلطنت ابدی سلطنت ہے جو جاتی نہ رہے گی اور اُس کی مملکت لازوال ہو گئ۔

جب یسوع نے کہا کہ وہ خدا باپ کے دائیں ہاتھ پر بیٹھے گا، تو یہودی سمجھ گئے کہ وہ بائبل کی اس آیت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔

زبور 110: 1

یٔہوواہ نے میرے خُداوند سے کہا تُومیرے دہنے ہاتھ بیٹھ جب تک کہ میں تیر ے دُشمنوں کو تیرے پاؤں کی چو کی نہ کر دوُں۔

بادشاہ داؤد نے یہ زبور لکھا اور کہا کہ خداوند خدا نے اپنے رب سے کہا کہ وہ اس کے دائیں ہاتھ پر بیٹھے رہے یہاں تک کہ اس کے تمام دشمن تباہ ہو جائیں۔ بادشاہ داؤد نے اس شخص کو اپنا رب کہا کیونکہ اس سے مراد مسیح ہے۔ اس لئے یسوع مسیح ہونے کا دعویٰ کر رہا تھا۔

یسوع نے خدا کا بیٹا ہونے کا بھی دعویٰ کیا، جسے یہودی ایک الہیٰ ہستی سمجھتے ہیں۔

لوقا 23:3-6

پِیلاطُس نے اُس سے پُوچھا کیا تُو یہُودِیوں کا بادشاہ ہے؟ اُس نے اُس کے جواب میں کہا تُو خُود کہتا ہے۔ پِیلاطُس نے سَردار کاہِنوں اور عام لوگوں سے کہا مَیں اِس شَخص میں کُچھ قُصُور نہِیں پاتا۔ مگر وہ اَور بھی زور دے کر کہنے لگے کہ یہ تمام یہُودیہ میں بلکہ گلِیل سے لے کر یہاں تک لوگوں کو سِکھا سِکھا کر اُبھارتا ہے۔ یہ سُن کر پِیلاطُس نے پُوچھا کیا یہ آدمِی گلِیلی ہے؟

پیلاطس نے یسوع کو ہیرودیس کے پاس کیوں بھیجا؟

پیلاطس کو ایک مشکل فیصلے کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ جانتا تھا کہ اسے یسوع کو آزاد کرنا چاہئے کیونکہ اسے اسے سزا دینے کے لئے کوئی وجہ نہیں ملی ۔ پھر وہ یہودیوں کے ساتھ الجھنے سے ڈرتا تھا۔ آخر میں ، اس نے فیصلہ کیا کہ اسے ہیرودیس کے پاس بھیج دے۔

ہمیں بھی یسوع کے بارے میں فیصلہ کرنے کا سامنا ہے۔ یہ ایک مشکل فیصلہ ہوسکتا ہے. ہوسکتا ہے کہ ہم صحیح بات جانتے ہوں لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارا فیصلہ غیر مقبول ہوگا۔ ہم کیا کرتے ہیں؟ کیا ہم پیلاطس کی طرح اس فیصلے کو ایک طرف دھکیل دیں گے؟

لوقا 23:13-24

پھِر پِیلاطُس نے سَردار کاہِنوں او سَرداروں اور عام لوگوں کو جمع کر کے۔ اُن سے کہا کہ تُم اِس شَخص کو لوگوں کا بہکانے والا ٹھہرا کر میرے پاس لائے ہو اور دیکھو مَیں نے تُمہارے سامنے ہی اُس کی تحقِیقات کی مگر جِن باتوں کا اِلزام تُم اُس پر لگاتے ہو اُن کی نِسبت نہ مَیں نے اُس میں کُچھ قُصُور پایا۔ یہ ہیرودِیس نے کِیُونکہ اُس نے اُسے ہمارے پاس واپَس بھیجا ہے اور دیکھو اُس سے کوئی اَیسا فِعل سرزد نہِیں ہُؤا جِس سے وہ قتل کے لائِق ٹھہرتا۔ پَس مَیں اُس کو پِٹوا کر چھوڑے دیتا ہُوں۔ اُسے ہر عِید میں ضرُور تھا کہ کِسی کو اُن کی خاطِر چھوڑ دے۔ وہ سب مِل کر چِلّا اُٹھے کہ اِسے لے جا اور ہماری خاطِر برابّا کو چھوڑ دے۔ (یہ کِسی بغاوت کے باعِث جو شہر میں ہُوئی تھی اور خُون کرنے کے سبب سے قَید میں ڈالا گیا تھا)۔ مگر پِیلاطُس نے یِسُوع کو چھوڑنے کے اِرادہ سے پھِر اُن سے کہا۔ لیکِن وہ چِلّا کر کہنے لگے کہ اِس کو صلِیب دے صلِیب! اُس نے تِیسری بار اُن سے کہا کِیوں؟ اِس نے کیا بُرائی کی ہے؟ مَیں نے اِس میں قتل کی کوئی وجہ نہِیں پائی۔ پَس مَیں اِسے پِٹوا کر چھوڑے دیتا ہُوں۔ مگر وہ چِلّا چِلّا کر سر ہوتے رہے کہ اُسے صلِیب دی جائے اور اُن کا چِلّانا کارگر ہُؤا۔ پَس پِیلاطُس نے حُکم دِیا کہ اُن کی دَرخواست کے مُوافِق ہو۔ !

کیا پیلاطس نے یسوع کو مجرم پایا؟ اگر نہیں، تو اس نے یسوع کو صلیب پر چڑھانے کا حکم کیوں دیا؟

پیلاطس جانتا تھا کہ صحیح کام یسوع کو آزاد کرنا تھا کیونکہ یسوع نے کوئی جرم نہیں کیا تھا۔ پھر بھی اس نے حکم دیا کہ یسوع کو مصلوب کیا جائے کیونکہ وہ لوگوں میں مقبول ہونا چاہتا تھا۔

ہمیں اس بات کی بنیاد پر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے جو ہمیں صحیح لگتا ہے اور ایسا فیصلہ نہیں کرنا چاہئے جو ہمیں دوسروں میں مقبول بنائے۔

لوقا 23:8 -10

ہیرودِیس یِسُوع کو دیکھ کر بہُت خُوش ہُؤا کِیُونکہ وہ مُدّت سے اُسے دیکھنے کا مُشتاق تھا۔ اِس لِئے کہ اُس نے اُس کا حال سُنا تھا اور اُس کا کوئی مُعجِزہ دیکھنے کا اُمِیدوار تھا۔ اور وہ اُس سے پہُتیری باتیں پُوچھتا رہا مگر اُس نے اُسے کُچھ جواب نہ دِیا۔ اور سَردار کاہِن اور فقِیہ کھڑے ہُوئے زور شور سے اُس پر اِلزام لگاتے رہے۔

یسوع کو بادشاہ ہیرودیس کے پاس لایا گیا جس نے اس سے بہت سے سوالات پوچھے۔ پادری اور مذہبی اساتذہ بھی اس کے بارے میں جھوٹے الزامات لگا رہے تھے۔ یسوع نے اپنا دفاع کیوں نہیں کیا؟

بائبل نے بہت پہلے اس کی پیش گوئی کی تھی جب اس میں اس بارے میں بتایا گیا تھا کہ مسیح کس طرح تکلیف اٹھانے کا انتخاب کرے گا اور اپنا دفاع نہیں کرے گا۔ وہ جس تکلیف سے گزرا وہ ہماری طرف سے تھا۔

یسعیساہ 53:5-7

حالانکہ وہ ہماری خطائوں کے سبب سے گھایل کیا گیا اور ہماری ہی سلامتی کے لئے اس پر سیاست ہوئی تاکہ اس کے مارکھانے سے ہم شفا پائیں۔ ہم سبب بھیڑوں کی مانند بھٹک گئےہم میں سے ہر ایک اپنی راہ کو پھرا پر خداوندنے ہم کی بد کرداری اُس پر لا دی۔ وہ ستایا گیا تو بھی اُس برداشت کی اور منہ نہ کھولا۔جس طرح برہ جسے ذبح کرنے کو لے جاتے ہیں اور جس طرح بھیڑ اپنے بال کترنے والوں کے سامنے بے زبان ہے۔اُسی طرح خاموش رہا۔

لوقا 23:33-34

جب وہ اُس جگہ پر پہُنچے جِسے کھوپڑی کہتے ہیں تو وہاں اُسے مصلُوب کِیا اور بدکاروں کو بھی ایک کو دہنِی اور دُوسرے کو بائیں طرف۔ یِسُوع نے کہا اَے باپ! اِن کو مُعاف کر کِیُونکہ یہ جانتے نہِیں کہ کیا کرتے ہیں۔ اور اُنہوں نے اُس کے کپڑوں کے حصّے کِئے اور اُن پر قُرعہ ڈالا۔

یسوع نے کیا جواب دیا جب لوگ اس پر ظلم کر رہے تھے؟

یسوع نے دعا کی کہ خدا ان کو معاف کرئے۔ یسوع نے بالکل وہی کیا جو اس نے لوگوں کو سکھایا تھا – ہمارے دشمنوں سے محبت کرنا۔

لوقا 6:27-28

لیکِن مَیں تُم سُننے والوں سے کہتا ہُوں کہ اپنے دُشمنوں سے مُحبت رکھّو۔ جو تُم سے عَداوَت رکھّے اُن کا بھلا کرو۔ جو تُم پر لعنت کرے اُن کے لِئے بَرکَت چاہو۔ جو تُمہاری تحقِیر کریں اُن کے لِئے دُعا کرو۔